فهرس الكتاب

الصفحة 1463 من 5274

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل

باب: معوذتین کی فضیلت

1463 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْجُحْفَةِ وَالْأَبْوَاءِ إِذْ غَشِيَتْنَا رِيحٌ وَظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِأَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَأَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَيَقُولُ يَا عُقْبَةُ تَعَوَّذْ بِهِمَا فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَؤُمُّنَا بِهِمَا فِي الصَّلَاةِ

سیدنا عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا ، ہم جحفہ اور ابواء کے درمیان تھے کہ آندھی آئی اور سخت اندھیرا چھا گیا ، تو رسول اللہ ﷺ «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھنے لگے اور فرمانے لگے " اے عقبہ ! ان کی تلاوت سے تعوذ کیا کرو ۔ ( اللہ سے پناہ مانگا کرو ۔ ) کسی پناہ مانگنے والے نے ان سے بڑھ کر افضل کلمات سے پناہ نہیں مانگی ۔ " عقبہ کہتے ہیں ، میں نے سنا کہ آپ ﷺ انہی سورتوں کے ساتھ نماز میں ہماری امامت فرماتے تھے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت