فهرس الكتاب

الصفحة 1480 من 5274

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل

باب:( آداب )دعا

1480 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ عَنْ ابْنٍ لِسَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعَنِي أَبِي وَأَنَا أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا وَبَهْجَتَهَا وَكَذَا وَكَذَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ وَسَلَاسِلِهَا وَأَغْلَالِهَا وَكَذَا وَكَذَا فَقَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ إِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَ الْجَنَّةَ أُعْطِيتَهَا وَمَا فِيهَا مِنْ الْخَيْرِ وَإِنْ أُعِذْتَ مِنْ النَّارِ أُعِذْتَ مِنْهَا وَمَا فِيهَا مِنْ الشَّرِّ

سیدنا سعد ؓ کے ایک صاحبزادے کہتے ہیں میرے والد نے مجھے سنا کہ میں اس طرح سے دعا کر رہا تھا اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں کا اور رونقوں کا اور یہ اور یہ ۔ اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں اور اس کی زنجیروں اور طوقوں سے اور اس کی ایسی ایسی بلاؤں سے ۔ تو انہوں نے کہا: بیٹے ! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ، آپ ﷺ فرماتے تھے " عنقریب کچھ لوگ ہوں گے جو دعا میں مبالغہ کریں گے ۔ " تو خیال رکھو کہیں ان میں سے نہ بن جانا ۔ اگر تجھے جنت مل گئی تو اس کی تمام خیرات تمہیں مل جائیں گی ۔ اور اگر جہنم سے بچ گئے تو اس کی تمام آفتوں سے بھی بچ جاؤ گے ۔

یہ روایت شیخ البانیؒ کے نزدیک صحیح ہے۔ ہمارے فاضل محقق کے نزدیک بھی اس کا پہلا حصہ (سيكون قوم يعتذرون في الدعا) صحیح ہے۔كيونكہ اتنا حصہ دوسرے طریق سے ثابت ہے۔دیکھئے حدیث 96)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت