1486 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ قَالَ قَرَأْتُهُ فِي أَصْلِ إِسْمَعِيلَ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ عَنْ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَةَ أَنَّ أَبَا بَحْرِيَّةَ السَّكُونِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ يَسَارٍ السَّكُونِيِّ ثُمَّ الْعَوْفِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا قَالَ أَبُو دَاوُد و قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ لَهُ عِنْدَنَا صُحْبَةٌ يَعْنِي مَالِكَ بْنَ يَسَارٍ
ابو بحریہ سکونی ، مالک بن یسار سکونی عوفی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جب تم اللہ سے سوال کرو ( دعا کرو ) تو اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے مانگا کرو ، ہاتھوں کی پشت سے نہ مانگا کرو ۔ " امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ سلیمان بن عبدالحمید نے کہا کہ ہمارے علم کے مطابق مالک بن یسار کو شرف صحابیت حاصل ہے ۔
عام دعائوں میں ہتھیلیاں ہی پھیلانی چاہیں۔مگر نماز استسقاء میں جب قحط اور خشکی دور کرنے کی دعا کی جائے۔تو بطورتفاول (نیک شگون) ہاتھوں کی پشت اُوپر کی جانب کی جائے۔جو کہ سنت رسول اللہ ﷺسے ثابت ہے۔