فهرس الكتاب

الصفحة 1497 من 5274

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل

باب:( آداب )دعا

1497 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُرِقَتْ مِلْحَفَةٌ لَهَا فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى مَنْ سَرَقَهَا فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ قَالَ أَبُو دَاوُد لَا تُسَبِّخِي أَيْ لَا تُخَفِّفِي عَنْهُ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چوری ہو گیا تو وہ چور پر بد دعا کرنے لگیں ۔ نبی کریم ﷺ فرمانے لگے " اس کے گناہ کو ہلکا مت کر ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں «لا تسبخي» کے معنی «لا تخففي» ہیں ، یعنی " ہلکا نہ کر ، کم نہ کر ۔ "

یہ روایت سندا ضعیف ہے۔اس لئے اس سے وہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ جو اس میں بیان کیا گیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت