فهرس الكتاب

الصفحة 155 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان

155 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا قَالَ مُسَدَّدٌ عَنْ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ قَالَ أَبُو دَاوُد هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ

سیدنا بریدہ ( بریدہ بن حصیب ) ؓ راوی ہیں کہ نجاشی ( والی حبشہ ) نے رسول اللہ ﷺ کے لیے سیاہ رنگ کے دو سادہ موزے ہدیہ بھجوائے تو آپ نے انہیں پہنا ، پھر وضو کیا تو ان پر مسح کیا ۔ جناب مسدد نے ( احمد بن شعیب کی روایت کے بالمقابل «حدثنا» کی بجائے «عن» سے روایت کی اور ) «عن دلهم بن صالح» کہا ہے ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ یہ روایت اہل بصرہ کے تفردات میں سے ہے ۔

فوائد ومسائل: (1) ہدیہ قبول کرنا اور قبول کے بعد فورًا استعمال میں لانا بھی جائز ہے اور یہ قبول کر لیے جانے کی علامت ہوتی ہے۔ (2) چمڑا رنگنے سے پاک ہوجاتا ہے۔ (3) اس روایت کو اہل بصرہ کے تفردات میں سے شمار کرنا امام ابوداؤد رحمہ اللہ کے تسامحات میں سے ہے۔ (عون المعبود)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت