فهرس الكتاب

الصفحة 1576 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: جنگل میں چرنے والے جانوروں کی زکوٰۃ

1576 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ، أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا، -أَوْ تَبِيعَةً-، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ -يَعْنِي: مُحْتَلِمًا- دِينَارًا، أَوْ عَدْلَهُ مِنَ الْمَعَافِرِ- ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيَمَنِ.

سیدنا معاذ ؓ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب ان کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا تھا " گائیوں میں ہر تیس میں ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی لینا اور ہر چالیس میں سے دو سالہ ۔ اور ہر ( غیر مسلم ) بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا جو کہ یمن میں ہوتا ہے ۔ "

(1) زکوۃ مسلمانوں پر فرض ہے اور انہی سے لی جاتی ہے جبکہ غیر مسلموں سے جزیہ لیاجاتا ہے ۔حدیث کایہی مفہوم اور مراد ہے ۔ (2) اونٹ کی زکوۃ میں حکم یہی ہے کہ مادہ جانور لیا جائے ۔صرف گائیوں کےبارے میں نر اور مادہ لینے میں رخصت ہے ۔وجہ یہ ہے کہ نر اونٹ سے صرف گوشت اور سواری کافائدہ ہوتا ہے جبکہ مادہ ان دونوں فائدوں کے علاوہ دودھ اور نسل کابھی فائدہ دیتی ہے جو بیل سےنہیں ہے ۔اس لیے منفعت رسانی میں دونوں کو یکساں شمار کیاگیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت