فهرس الكتاب

الصفحة 1589 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: تحصیلدار زکوٰۃ کو راضی کرنے کا بیان

1589 حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي كَامِلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ نَاسٌ يَعْنِي مِنْ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّ نَاسًا مِنْ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا فَيَظْلِمُونَا قَالَ فَقَالَ أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ ظَلَمُونَا قَالَ أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ زَادَ عُثْمَانُ وَإِنْ ظُلِمْتُمْ قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ جَرِيرٌ مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ

سیدنا جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ دیہاتی لوگ آئے اور انہوں نے کہا: بعض عمال ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر ظلم کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " اپنے صدقہ وصول کرنے والوں کو راضی رکھو ۔ " انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! خواہ وہ ہم پر ظلم کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " اپنے زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو راضی رکھو ۔ " عثمان ( بن ابی شیبہ ) نے اضافہ کیا " اگرچہ تم پر زیادتی کی جائے ۔ " ابوکامل نے اپنی حدیث میں بیان کیا ، جریر نے کہا: یہ فرمان نبوی سن لینے کے بعد سے عامل ہمیشہ مجھ سے راضی ہی گیا ہے ۔

''عامل کو راضی کرنا ''اسی صورت میں ہے کہ وہ واجب شرعی کا مطالبہ کرے تو اسے ادا کر دیا جائے اور اس کے ساتھ حسن معاملہ کا رویہ رکھا جائے اور ظاہر ہے کہ یہ حکم عادل او رغیر ظالم عاملین کے متعلق ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت