فهرس الكتاب

الصفحة 1604 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: درختوں پر انگوروں کا اندازہ لگانا

1604 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.قَالَ أَبو دَاود: سَعِيدٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَتَّابٍ شَيْئًا.

محمد بن صالح التمار نے ابن شہاب سے ان کی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ سعید ( ابن مسیب ) نے سیدنا عتاب سے کچھ نہیں سنا ۔

چونکہ انگور کھجوریں اور دیگر پھل آہستہ آہستہ تیار ہوتے اور استعمال میں آتے رہتے ہیں۔اس لئے ان کے عشرکےلئے یہ قاعدہ ہے۔ کہ تجربہ کار اصحاب نظر سے اندازہ لگوایا جاتا ہے۔جو درختوں پر لگے کچے پھل کودیکھ کر بتاتے ہیں کہ تیار ہونے پر یہ پھل اندازًا اس مقدار کا ہوگا۔اسے عربی میں (خرص) اوراُردو میں اندازہ اور تخمینہ لگانا کہتے ہیں۔اوراس اندازہ کئے وزن میں تہائی یا چوتھائی چھوڑ کر باقی پرعشر لاگو کیا جاتا ہے۔مندرجہ بالا دونوں روایات انفرادی طور پرضعیف مگر دیگرشواہد سے قابل عمل ہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے۔ (ارواۃ الغلیل۔280/3 حدیث 805)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت