فهرس الكتاب

الصفحة 1628 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: صدقہ کسے دیا جائے ؟ اور غنی ہونے کی حد کیا ہے ؟

1628 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ فَقُلْتُ نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ هِيَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ قَالَ هِشَامٌ خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَرَجَعْتُ فَلَمْ أَسْأَلْهُ شَيْئًا زَادَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ وَكَانَتْ الْأُوقِيَّةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا

سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جو شخص مانگے ، حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ( چالیس درہم ) کے مساوی موجود ہو تو اس کا سوال الحاف ہے ۔ " ( بے جا اصرار ہے ) میں نے کہا: میری یاقوتہ اونٹنی ایک اوقیہ سے بہت بہتر ہے ۔ ہشام کی روایت میں ہے ، چالیس درہموں سے بہت بہتر ہے ۔ چنانچہ میں لوٹ آیا اور آپ ﷺ سے کچھ نہ مانگا ۔ ہشام کی روایت میں اضافہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا تھا ۔

(الحاف) مانگنے کی اس کیفیت کو کہتے ہیں جب مانگنے والا بے جا اصرار کرے۔اور چمٹ کر مانگے۔باوقار فقراء کی صفت قرآن مجید ن یہ بتائی ہے کہ (يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَاف) (البقرہ 237) بے خبر لوگ ان کو غنی سمجھتے ہیں۔ آپ ان کو ان کی علامات سے پہچانتے ہیں۔یہ لوگوں سے لپٹ کر (اصرار سے) سوال نہیں کرتے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت