فهرس الكتاب

الصفحة 1643 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: مانگنے اور سوال کرنے کی برائی

1643 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ وَكَانَ ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَكْفُلُ لِي أَنْ لَا يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا وَأَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ فَقَالَ ثَوْبَانُ أَنَا فَكَانَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا

مولیٰ ( غلام اور خادم ) تھے ۔ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " کون ہے جو مجھے یہ ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کچھ نہیں مانگے گا تو میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دوں ؟ " تو سیدنا ثوبان ؓ نے کہا: میں ، چنانچہ وہ کسی سے کچھ نہ مانگا کرتے تھے ۔

لوگوں سے نہ مانگنا اپنے وسیع تر معنی میں غیر اللہ نہ مانگنے کو بھی شامل ہے۔جو عین توحید ہے۔اور داخلہ جنت کی ضمانت بھی ادھر ہمارا معاشرہ ہے کہ غیر اللہ سے مانگنے کےلئے جگہ جگہ شرک کے دربار لگے ہیں۔جہاں سادہ لوح لوگوں کی پونجی دائو پر لگتی ہے۔العیاذ باللہ۔ او ر پیشہ ور سوالیوں کو اپنے عمل کی بُرائی اور انجام بد کی خبر ہی نہیں۔ (لاحول ولا قوۃ الا باللہ )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت