فهرس الكتاب

الصفحة 1647 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: سوال سے بچنے کی فضیلت

1647 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ فَقُلْتُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ قَالَ خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَهُ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ

سیدنا ابن ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے مجھے صدقات کا تحصیلدار بنا کر بھیجا ۔ جب میں اس کام سے فارغ ہو کر آیا اور جمع ہونے والے صدقات ان کو پیش کیے تو انہوں نے میرے بارے میں حکم دیا کہ اسے اس کا حق الخدمت دیا جائے ۔ میں نے کہا: ( نہیں ) میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے اور میرا اجر اللہ پر ہے ۔ انہوں نے فرمایا جو تمہیں دیا جا رہا ہے وہ لے لو ۔ میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ( اسی قسم کا ) کام کیا تھا ، تو آپ نے مجھ اس کا حق الخدمت دیا تھا ۔ میں نے بھی تمہاری طرح کا جواب دیا تھا ، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا " جب تمہیں کوئی چیز بن مانگے دی جائے تو ( لے لو اور ) کھاؤ اور صدقہ کرو ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت