فهرس الكتاب

الصفحة 165 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: مسح کیسے ہو؟

165 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ مَحْمُودٌ أَخْبَرَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفَّيْنِ وَأَسْفَلَهُمَا قَالَ أَبُو دَاوُد وَبَلَغَنِي أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ ثَوْرُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَجَاءٍ

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سفر تبوک میں نبی کریم ﷺ کو وضو کروایا تو آپ ﷺ نے ( اس موقع پر ) موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کیا ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جناب ثور نے یہ حدیث رجاء سے نہیں سنی ۔

فوائد مسائل: موزوں پر مسح میں مشروع یہ ہے کہ ان کے اوپرکی جانب گیلا ہاتھ پھیرا جائے۔ صحیح احادیث کی دلالت یہی ہے اور جن میں یہ آیا ہےکہ موزوں کے نیچے بھی مسح کیا تو ان کی اسانید میں کلام ہے۔اس لیےان میں تعارض ہے نہ تطبیق کی ضرورت جیسا کہ بعض حضرات نےجمع وتطبیق سے کام لیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت