1661 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا حَقُّ الْإِبِلِ؟... فَذَكَرَ نَحْوَهُ، زَادَ: وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا.
سیدنا عبید بن عمیر ؓ ( تابعی ) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اونٹوں کا کیا حق ہے ؟ تو مذکورہ بالا کی مانند ذکر کیا اور مزید کہا: " اس کا ڈول عاریتًا دے دینا ۔ "
ڈول عاریتًا دینے سے مراد معروف پانی کھینچنے کا برتن ہوسکتا ہے۔ یہ بھی خیر میں ایک تعاون کی ایک صورت ہے اور یہ سب کام مستحب مندوب اورفضیلت وشرف والے ہیں۔