فهرس الكتاب

الصفحة 1663 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: مال کے حقوق کا بیان

1663 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ وَمُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ فَجَعَلَ يُصَرِّفُهَا يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي الْفَضْلِ

سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی اپنی اونٹنی پر آیا اور اسے دائیں بائیں گھمانے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس کے پاس کوئی زائد سواری ہو وہ اس شخص کو دیدے جس کے پاس سواری نہ ہو ۔ اور جس کے پاس کھانے پینے کی کوئی زائد چیز ہو وہ اس شخص کو دیدے جس کے پاس توشہ نہ ہو ۔ " ( آپ ﷺ کے اس ارشاد سے ) ہم نے یہ سمجھا کہ ہمارے زائد اموال میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے ۔

1۔یہ اونٹنی والا جو اسے گھما رہا تھا شاید تھک گئی تھی۔ اور چلنے سے عاجز تھی۔ اس شخص نے یہ انداز اختیار کیا تاکہ نبی کریمﷺ سے دیکھ لیں۔ اور کوئی دوسری عنایت فرمادیں۔2۔ انتہائی ضرورت اور تنگی کے احوال میں زائد مال محتاجوں تک پہنچانا جیسے کہ قحط میں ہوتا ہے۔واجب ہے۔اور عام حالات میں مستحب اور مندوب ہے اسی قسم کے ارشادات کی بنا پر حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے جو غنی اور اصحاب وسعت تھے۔مال جمع رکھنے پر تکرار کیا کرتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت