فهرس الكتاب

الصفحة 1667 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: سائل کا حق

1667 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ

سیدہ ام بجید ؓا سے روایت ہے اور وہ ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی ۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اللہ کی آپ پر رحمتیں نازل ہوں ، مسکین میرے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے اور میرے پاس اسے دینے کو کچھ نہیں ہوتا جو میں اسے دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " اگر تمہیں اسے دینے کو کچھ نہ ملے ، اور تمہارے پاس بکری کا جلا ہوا کھر ہی ہو تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو ۔ "

مطلب یہ ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ ضرور دو خالی ہاتھ نہ لوٹائو مگر پیشہ ور عادی سائل کا یہ حکم نہیں۔پیشہ ور گداگروں کو دینا پیشہ گداگری کی حوصلہ افزائی ہے۔جو جرم ہے تاہم جس کا پیشہ ور ہونا یقینی نہ ہو تو اس کی حسب استطاعت امداد کرنی چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت