فهرس الكتاب

الصفحة 1690 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: رشتے ناتے والوں کے ساتھ میل جول اور حسن سلوک

1690 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ عَبْدَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ فَأَعْتَقْتُهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ آجَرَكِ اللَّهُ أَمَا إِنَّكِ لَوْ كُنْتِ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ

ام المؤمنین سیدہ میمونہ ؓا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی ، میں نے اسے آزاد کر دیا ، پھر رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے ، میں نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا " اللہ تجھے جزا دے ، تاہم تو اگر اسے اپنے مامووں کو دے دیتی تو تیرے لیے زیادہ ثواب ہوتا ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت