17 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ أَبِي سَاسَانَ عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ أَوْ قَالَ عَلَى طَهَارَةٍ
سیدنا مہاجر بن قنفذ ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرے اور آپ ﷺ پیشاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے سلام کیا تو آپ ﷺ نے جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ ﷺ نے وضو کیا ( اور جواب دیا ) اور معذرت کرتے ہوئے فرمایا " مجھے یہ بات ناپسند آئی کہ طہارت کے بغیر اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں ۔" راوی کو شبہ ہے کہ آپ ﷺ نے «على طهر» کہا تھا یا «على طهارة» ( معنی دونوں کا ایک ہی ہے ) ۔
فوائد ومسائل: (1) یہ روایت ایک دوسرے طریق سے آتی ہے اور وہ صحیح ہے ، اس میں صرف یہاں تک بیان ہے کہ نبیﷺ نے اس کے سلام کو جواب نہیں دیا ۔ (صحیح مسلم ، حدیث:370) اس لیے ابوداؤد کی حدیث نمبر 17 کا اگلا حصہ کہ آپ نے وضو کیایہ صحیح نہیں ، اس لیے یہ بات تو صحیح ثابت ہوئی کہ پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے سلام کاجواب نہ دیا جائے۔ لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ سلام کا جواب یا اللہ کا ذکر وضو کے بغیر جائز نہیبں۔ (2) اس سے یہ بات بھی مستفاد ہوتی ہے کہ قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوئے شخص کو سلام نہ کیا جائے۔ (ص ۔ی)