باب: حج فرض ہے
1722 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ ابْنٍ لِأَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصْرِ
سیدنا ابوواقد اللیثی ؓ سے منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ اپنی ازواج سے حجتہ الوداع میں فر رہے تھے " حج بس یہ ہے ، پھر ( گھر کی ) چٹائیوں کو لازم پکڑنا ہے ۔ "
یہ دلیل ہے کہ حج ایک ہی بار فرض ہے ۔علاوہ ازیں نفل ہے ۔ تاہم حج وعمرہ بار بار کرنے کی ترغیب بھی آئی ہے ۔آپ ﷺ کا فرمان ہے حج اور عمرہ باربار کرو بلاشبہ یہ فقیری اور گناہوں کو دور کرتے ہیں جیسے کہ بھٹی لوہے سونے اور چاندی کامیل کچیل دور کر دیتی ہے اور پاک صاف حج کا ثواب جنت کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ (جامع ترمذی المناسک حدیث:810 وسنن نسائی حدیث:2631)