1744 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَإِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ عِكْرِمَةَ وَمُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ إِذَا أَتَتَا عَلَى الْوَقْتِ تَغْتَسِلَانِ وَتُحْرِمَانِ وَتَقْضِيَانِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ فِي حَدِيثِهِ حَتَّى تَطْهُرَ وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ عِيسَى عِكْرِمَةَ وَمُجَاهِدًا قَالَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَقُلْ ابْنُ عِيسَى كُلَّهَا قَالَ الْمَنَاسِكَ إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ
سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " حیض اور نفاس والی عورتیں جب میقات پر پہنچیں تو غسل کر کے احرام باندھ لیں اور حج کے تمام اعمال سر انجام دیں ، سوائے بیت اللہ کے طواف کے ۔ " ابومعمر کی روایت میں ہے " حتیٰ کہ وہ پاک ہو جائیں ۔ " محمد بن عیسیٰ کی روایت میں عکرمہ اور مجاہد کا ذکر نہیں ہے بلکہ ( اس کی سند ) " عطاء عن ابن عباس " ہے ایسے ہی ابن عیسیٰ کی روایت میں «كلها» کا لفظ نہیں آیا بلکہ یوں کہا « المناسك إلا الطواف بالبيت» ۔
(1) حیض ونفاس والی عورتیں حج وعمر ہ کے لیے غسل کر کے احرام باندھیں تلبیہ پکاریں اور تسبیحات استغفار اور اذکار میں مشغول رہیں ۔ سوائے بیت اللہ کے طواف کے ان پر اور کوئی پابندی نہیں ۔ (2) ایسے ہی کسی کو احتلام ہو جائے تو اس کے احرام میں کوئی خلل نہیں آتا ۔