فهرس الكتاب

الصفحة 1771 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: احرام باندھنے کا وقت

1771 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا کہ تم لوگ اس میدان بیداء کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق غلط کہتے ہو ۔ آپ ﷺ نے تو مسجد ہی کے پاس تلبیہ پکارنا شروع کر دیا تھا یعنی ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس سے ۔

(1) حضرت عبداللہ بن عمر کامقصد اس بات کی نفی کرنا ہے جوبعض نے بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے تلبیہ بیداء کےمقام پر پکارا تھا بلکہ آپ نے اس کا آغاز مسجد ذوالحلیفہ ہی سے کر دیا تھا ۔ (2) رسول اللہ ﷺ کے دور میں ذوالحلیفہ کےمقام پر کوئی باقاعدہ مسجد نہ تھی ۔ احادیث میں لغوی معنی مراد ہیں ۔یعنی جس جگہ آپ نے نماز پڑھی یہاں اس وقت ایک درخت بھی تھا ۔ باقاعدہ تعمیر بعد کےکسی دور میں ہوئی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت