فهرس الكتاب

الصفحة 1773 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: احرام باندھنے کا وقت

1773 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَاتَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ حَتَّى أَصْبَحَ فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَاسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ

سیدنا انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینے میں ظہر کی نماز چار رکعت ادا فرمائی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں اور یہیں رات گزاری حتیٰ کہ صبح ہو گئی ۔ پھر جب آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور وہ آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پکارا ۔

قصر نماز سفر شروع ہونے کے بعد ہی پڑھی جاتی ہے اور ذوالحلیفہ آپ کے سفرکی پہلی منزل تھی اور یہی اہل مدینہ کی میقات احرام ہے اور نبی ﷺ نے یہیں دوسرے دن ظہر کی نماز کے بعد احرام باندھا اور تلبیہ پکارنا شروع کیا۔ اس حدیث سے واضح ہے کہ نبی ﷺ نے احرام کی دورکعتیں نہیں پڑھیں ۔اگلی روایت میں اس کی مزید وضاحت ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت