1784 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهَلِيُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَّا سُقْتُ الْهَدْيَ قَالَ مُحَمَّدٌ أَحْسَبُهُ قَالَ وَلَحَلَلْتُ مَعَ الَّذِينَ أَحَلُّوا مِنْ الْعُمْرَةِ قَالَ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ النَّاسِ وَاحِدًا
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " اگر مجھے اس بات کی خبر پہلے ہوتی جس کی بعد میں ہوئی ہے تو میں قربانی ساتھ لے کر نہ آتا ۔ " محمد بن یحییٰ نے کہا: میرا خیال ہے کہ شیخ نے یہ بھی کہا: " اور میں عمرے کے بعد حلال ہونے والوں کے ساتھ حلال ہو جاتا ۔ " کہا: آپ کا ارادہ تھا کہ سب لوگ ایک ہی حال پر ہوں ۔
دراصل جاہلیت میں لوگ حج کے ساتھ یا حج کے مہینوں میں عمرہ گناہ کا کام سمجھتے تھے تو اس پرانی روش کے بدلنے کے لیے یہ تاکیدی حکم دیا گیا تھا ۔