1806 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ حَلُّوا وَلَمْ تُحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ فَقَالَ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ الْهَدْيَ
ام المؤمنین سیدہ حفصہ ؓا سے مروی ہے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! لوگوں کا کیا حال ہے کہ حلال ہو گئے ہیں جبکہ آپ اپنے عمرے سے حلال نہیں ہوئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " میں نے اپنے سر کے بال چپکا رکھے ہیں اور اپنی قربانی کو قلاوہ پہنایا ہوا ہے ، سو میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا جب تک کہ قربانی نحر نہ کر لوں ۔ "
چونکہ ازواج محترمات کی قربانیاں ان کے ساتھ نہیں تھی اس لیے وہ حلال ہو گئیں ۔ اور رسول اللہ ﷺ محرم ہی رہے ۔ (صحیح بخاری الحج حدیث:1561)