فهرس الكتاب

الصفحة 1814 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: تلبیہ کیسے کہے؟

1814 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي وَمَنْ مَعِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ أَوْ قَالَ بِالتَّلْبِيَةِ يُرِيدُ أَحَدَهُمَا

جناب خلاد بن سائب انصاری اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ اور دوسرے ساتھ والوں کو حکم دوں کہ تلبیہ کہنے میں اپنی آوازیں اونچی رکھیں ۔ " راوی کہتا ہے کہ آپ کے الفاظ «بالإهلال» تھے یا «بالتلبية» ( معنی ایک ہی ہیں ) ۔

(1) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جبرئیل ﷩ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وحی قرآن کے بغیر بھی حاضر ہواکرتے تھے اور اس وقت الحکمۃ کی وحی ہوتی لہٰذا حدیث رسول ﷺ بھی وحی [منزل من الله] اور واجب الاتباع ہے ۔ (2) عام محدثین نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ تلبیہ کہنے میں آواز اونچی رکھنامستحب ہے مگر عورتیں اس سےمستثنی ہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت