فهرس الكتاب

الصفحة 182 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: اس میں رخصت کا بیان

182 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ- كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ-، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: >هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ- أَوْ قَالَ: بَضْعَةٌ مِنْهُ-؟. قَالَ: أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَجَرِيرٌ الرَّازِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ.

جناب قیس بن طلق اپنے والد ( طلق ؓ ) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو ایک آدمی آیا وہ بظاہر بدوی ( دیہاتی ) تھا ، کہنے لگا: اے اللہ کے نبی ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے وضو کے بعد اپنے ذکر کو ہاتھ لگا لیا ہو ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا " یہ اس کے جسم کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے ! ۔" امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ اس روایت کو ہشام بن حسان ، سفیان ثوری ، شعبہ ، ابن عیینہ اور جریر رازی نے محمد بن جابر سے ، انہوں نے قیس بن طلق سے روایت کیا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت