فهرس الكتاب

الصفحة 1852 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: محرم کے لیے شکار کے گوشت کا مسئلہ

1852 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ قَالَ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ تَعَالَى

سیدنا ابوقتادہ انصاری ؓ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے حتیٰ کہ مکہ کے راستے میں ایک جگہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے جو کہ احرام میں تھے جب کہ یہ بغیر احرام کے تھے ۔ ابوقتادہ ؓ نے ایک نیل گائے کو دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے اور ساتھیوں سے کہا: مجھے میرا کوڑا پکڑا دو ۔ انہوں نے کوڑا دینے سے انکار کر دیا ۔ پھر بھالا مانگا تو انہوں نے اس ( کے دینے ) سے بھی انکار کر دیا ۔ آخر خود ہی اٹھایا اور اس نیل گائے کے پیچھے بھاگ گئے اور اسے مار لائے ۔ تو کچھ اصحاب رسول ﷺ نے اس کا گوشت کھایا اور کچھ نے انکار کر دیا ۔ پھر جب یہ حضرات رسول اللہ ﷺ سے جا ملے تو آپ سے اس کے بارے میں دریافت کیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " یہ تو رزق ہے جو اللہ نے تمہیں کھلایا ہے ۔ "

-1احرام کی حالت میں کسی شکاری کوشکار کا اشارہ دینا یا اس سے کسی طرح کا تعاون کرنا بھی ناجائز ہے۔2۔جب کوئی شکاری صرف اپنے لئے شکار کرے تو محرمین کو اس سے کھا لینا جائز ہے۔3۔صحیح احادیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس کا بقیہ گوشت تناول فرمایا تھا۔ (صحیح المسلم الحج۔حدیث 1197۔1196)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت