1900 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عَمْرٍو الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُودُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَيُقِيمُهُ عِنْدَ الشُّقَّةِ الثَّالِثَةِ مِمَّا يَلِي الرُّكْنَ الَّذِي يَلِي الْحَجَرَ مِمَّا يَلِي الْبَابَ فَيَقُولُ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي هَا هُنَا فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُومُ فَيُصَلِّي
جناب محمد بن عبداللہ بن سائب اپنے والد ( عبداللہ بن سائب سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا ہاتھ پکڑ کر چلتے تھے( جبکہ وہ نابینا ہو چکے تھے ) اور انہیں تیسرے کونے کے پاس کھڑا کر دیتے تھے جو کہ حجر اسود کے ساتھ دروازہ کعبہ کے پاس ہے تو سیدنا ابن عباس ؓ اسے کہتے " کیا خبر دی گئی ہے تمہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہاں نماز پڑھا کرتے تھے ؟ " تو وہ کہتے کہ ہاں ! پھر وہ کھڑے ہو جاتے اور نماز پڑھتے ۔
سند اس روایت کی بھی ضعیف ہے۔ مگر دیگر روایات کی روشنی میں صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین سے یہ عمل ثابت ہے۔اورصحیح ہے۔