فهرس الكتاب

الصفحة 1940 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: مزدلفہ سے روانگی میں جلدی کرنا

1940 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ فَجَعَلَ يَلْطَخُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ أَبُو دَاوُد اللَّطْخُ الضَّرْبُ اللَّيِّنُ

سیدنا ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ کی رات ہم بنی عبدالمطلب کے چھوٹے لڑکوں کو گدھوں پر سوار کر کے آگے بھیج دیا تھا ۔ اس موقع پر آپ ﷺ ہماری رانوں پر آہستہ آہستہ مارتے ہوئے فر رہے تھے " بچو ! سورج طلوع ہونے سے پہلے جمرہ کو کنکریاں نہ مارنا ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں «اللطخ» کا معنی ہے " نرم انداز میں مارنا ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت