فهرس الكتاب

الصفحة 1950 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: جو شخص وقوف عرفات نہ پا سکے ؟

1950 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْقِفِ يَعْنِي بِجَمْعٍ قُلْتُ جِئْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَكَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَأَتَى عَرَفَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ

سیدنا عروہ بن مضرس طائی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں وقوف کے وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اﷲ کے رسول ! میں قبیلہ طے کے دو پہاڑوں سے آیا ہوں ۔ میں نے اپنی سواری کو ہلکان کیا ہے اور اپنے آپ کو بہت تھکایا ہے ۔ قسم اﷲ کی ! میں نے کوئی ٹیلہ ( یا پہاڑ ) نہیں چھوڑا مگر اس پر وقوف کیا ہے ۔ تو کیا میرا حج ہو گیا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز ( فجر ) پا لی اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں عرفات میں حاضر ہو چکا ہے تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا ( اس نے مناسک حج پورے کر لیے ۔ اب مابعد کے دیگر اعمال حج پورے کر کے اپنا احرام کھول دے ) " ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت