فهرس الكتاب

الصفحة 1974 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: جمرات کو کنکریاں مارنا

1974 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ لَمَّا انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى جَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَقَالَ هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ

سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ جمرہ کبریٰ ( جمرہ عقبہ ) کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ نے بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب اور منٰی کو دائیں جانب کیا اور پھر جمرے کو سات کنکریاں ماریں ۔ سیدنا ابن مسعود ؓ نے کہا: اور اس طرح سے رمی کی اس ذات نے جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی تھی ۔

اور یہ وہی منظر ہے جس کا ذکر دیگر احادیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے وادی کے دامن میں سے کنکریاں ماریں (صحیح البخاری الحج حدیث:1750)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت