2006 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْتُ مَعَهُ تَعْنِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّفْرِ الْآخِرِ فَنَزَلَ الْمُحَصَّبَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ قِصَّةَ بَعْثِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَتْ ثُمَّ جِئْتُهُ بِسَحَرٍ فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ فَارْتَحَلَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَطَافَ بِهِ حِينَ خَرَجَ ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا ہے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ منٰی سے آخری دن میں نکلی تو آپ ﷺ نے وادی محصب میں پڑاؤ کیا ۔ ( مکہ اور منٰی کے درمیان مقبرۃ المعلاۃ سے منٰی کی طرف جانے والے راستے کا نام ابطح اور محصب ہے ۔ ) امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ ابن بشار نے اس حدیث میں ان کو تنعیم کی طرف روانہ کرنے کا ذکر نہیں کیا ۔ ( سیدہ عائشہ ؓا ) کہتی ہیں چنانچہ میں سحر کے وقت ( عمرے سے فارغ ہو کر ) آپ کے پاس پہنچی تو آپ نے صحابہ کو کوچ کا حکم دیا اور خود سوار ہوئے اور نماز فجر سے پہلے بیت اللہ میں آئے ، طواف کیا اور پھر مدینہ کی راہ کی طرف چل نکلے ۔