201 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ:ا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي حَاجَةً، فَقَامَ يُنَاجِيهِ، حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا.
سیدنا انس ؓ نے بیان کیا کہ نماز عشاء کی اقامت کہی جا چکی تھی کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! مجھے آپ سے کام ہے ۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ سے سرگوشیاں کرنے لگا ۔ حتیٰ کہ قوم کو یا ان میں سے کچھ کو اونگھ آنے لگی ۔ اس کے بعد آپ نے نماز پڑھائے اور ( سیدنا انس ؓ نے) وضو کرنے کا ذکر نہیں کیا ۔ "
اقامت اورتکبیر تحریمہ میں کچھ فاصلہ ہوجائےتوکوئی حرج نہیں ہے' دوبارہ اقامت کہنے کی ضرورت ہے' نہ امام پر یہ واجب ہےکہ تکبیرکےفورًابعداللہ اکبرکہہ کر نمازشروع کردےئ جیساکہ بعض حضرات کاموقف ہے۔