فهرس الكتاب

الصفحة 2015 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: جو شخص( دسویں تاریخ کے )اعمال حج میں تقدیم تاخیر کر دے ؟

2015 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ فَمَنْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا فَكَانَ يَقُولُ لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ

سیدنا اسامہ بن شریک ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کے لیے روانہ ہوا ۔ لوگ آپ ﷺ کے پاس آتے تھے ، تو جس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی ہے یا کوئی کام پہلے کر لیا ہے یا کوئی مؤخر کر دیا ہے ۔ تو آپ ﷺ فرماتے تھے " کوئی حرج نہیں ، کوئی حرج نہیں ۔ مگر جو کوئی ظلم کرتے ہوئے کسی مسلمان کی عزت کو کاٹے ( غیبت کرے یا طعن و تشنیع وغیرہ ) تو وہ حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت