باب: آیت کریمہ «الزاني لا ينكح إلا زانية» کی تفسیر " یعنی بدکار مرد کسی بدکار عورت ہی سے نکاح کرتا ہے ۔"
2052 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو مَعْمَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >لَا يَنْكِحُ الزَّانِي الْمَجْلُودُ إِلَّا مِثْلَهُ. وقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ:، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ.
سیدنا ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " کوئی زانی ، جسے زنا کی حد لگی ہو ، کسی اپنے جیسی عورت ہی سے نکاح کرتا ہے ۔ " ابومعمر نے اپنی سند میں یوں کہا «حدثني حبيب المعلم ، عن عمرو بن شعيب» ۔
1۔مسدد اور ابو معمر کی سند میں فرق یہ ہے کہ معمر کی روایت میں استاد عبد الوارث نے حبیب المعلم سے تحدیث کی تصریح کی ہے اور حبیب نے عمرو بن شعب سے عن سے روایت کی جب کہ مسدد کی روایت اس کے برعکس ہے۔2۔اس حدیث میں بھی مذکورہ بالا امر کی توضیح وتایئد ہے۔کہ جس کی شہرت بری ہوجائے اسے کسی اپنے جیسے ہی سے نکاح کرنا چاہیے۔