فهرس الكتاب

الصفحة 2081 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: نکاح کے پیغام پر پیغام بھیجنا حرام ہے

2081 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَبِعْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ, إِلَّا بِإِذْنِهِ.

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے مگر اس کی اجازت سے ۔ "

کسی شخص نے کسی گھر میں نکاح کا پیغام بھیجا ہو تو دوسرے کسی شخص کو یہ جانتے ہوئے کہا کہ انہیں پیغام دیا گیا ہے اور انہوں نے ہاں یا نہ میں کوئی جواب نہیں دیا ہے ،اپنا پیغام نہیں بھیجنا چاہیے ۔ الا یہ کہ واضح ہو کہ ان کی خاموشی انکا ر کے معنی میں ہے ۔ اگر نسبت طے ہو چکی ہو تو اپنا پیغام بھیج کر پہلی نسبت تڑوانے کی کوشش کرنا حرام ہے ۔ کیو نکہ اس طرح دو مسلمان بھائیوں یا خاندانوں میں کشمکش اورعداوت کا قومی اندیشہ ہے اگر ہاں پہلا فریق اجاازت دے دے تو کوئی حرج نہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت