فهرس الكتاب

الصفحة 2095 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: نکاح کے سلسلے میں لڑکی سے مشورہ کرنا

2095 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي الثِّقَةُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >آمِرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ.

سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " لڑکیوں کے سلسلے میں عورتوں سے ( ان کی ماؤں سے ) مشورہ کر لیا کرو ۔ "

یہ اثر سند ا کمزور ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ مائیں اپنی بچیوں کی بہت عمدہ راز دار ہوتی ہیں اور پچیاں بالعموم اپنے دل کی بات ماوں کے سامنے پیش کردیتی ہیں اور مذکورہ بالا نبوی ارشادات اسلام میں عورتوں کے حقوق کی اہمیت کی عظیم دلیل ہیں ،جو اسلام نے انہیں ڈیڑھ ہزار سال پہلے پہ عطا فر مادیے ہوئے ہیں ۔ نام نہاد تہذیب نو نے ان کو کیا حقوق دینے ہیں ؟یہ تو انہیں بے لباس کرنے اور بکاو مال (شوپیس ) بنانے پر تلی ہوئی ہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت