2097 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ أَبو دَاود: لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ النَّاسُ مُرْسَلًا مَعْرُوفٌ.
عکرمہ نبی کریم ﷺ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا کہ ( عکرمہ نے ) ابن عباس ؓ کا نام ذکر نہیں کیا ، اور محدثین کے ہاں اس روایت کو اسی طرح مرسل روایت کرنا ہی معروف ہے ۔
باب کو روا نہیں کہ جوان بیٹی کا عندیہ لیے بغیر اس کا نکاح کر دے ، جبر کی صورت میں اسے حق حاصل ہے کہ قاضی کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر دے اور قاضی تحقیق احوال کے بعد شرعی تقاضوں کے مطابق فیصلہ دے ۔ اگر باپ ولی کا فیصلی بے محل ہو تو قاضی ایسے نکاح کو فسخ کر سکتا ہے ۔