فهرس الكتاب

الصفحة 2097 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: اگر باپ کنواری لڑکی کا ، اس سے مشورہ کیے بغیر نکاح کر دے تو؟

2097 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ أَبو دَاود: لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ النَّاسُ مُرْسَلًا مَعْرُوفٌ.

عکرمہ نبی کریم ﷺ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا کہ ( عکرمہ نے ) ابن عباس ؓ کا نام ذکر نہیں کیا ، اور محدثین کے ہاں اس روایت کو اسی طرح مرسل روایت کرنا ہی معروف ہے ۔

باب کو روا نہیں کہ جوان بیٹی کا عندیہ لیے بغیر اس کا نکاح کر دے ، جبر کی صورت میں اسے حق حاصل ہے کہ قاضی کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر دے اور قاضی تحقیق احوال کے بعد شرعی تقاضوں کے مطابق فیصلہ دے ۔ اگر باپ ولی کا فیصلی بے محل ہو تو قاضی ایسے نکاح کو فسخ کر سکتا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت