فهرس الكتاب

الصفحة 210 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: مذی کامسئلہ

210 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً، وَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنَ الِاغْتِسَالِ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: >إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ؟ قَالَ: يَكْفِيكَ بِأَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ، فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ

سیدنا سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ مجھ بہت زیادہ مذی آتی تھی اور اس بنا پر غسل بھی بہت زیادہ کرنا پڑتا تھا ، لہٰذا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا " اس کے لیے تمہیں وضو ہی کافی ہے ۔ " میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اور جو میرے کپڑے کو لگ جائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " جہاں تو محسوس کرے کہ کپڑے کو لگی ہے وہاں پانی کا ایک چلو لے کر چھڑک لیا کر ، یہی کافی ہے ۔ "

اس سے معلوم ہواکہ مذی کےنکلنےسےوضوتوٹوٹ جائےگا'لیکن کپڑےکودھوناضروری نہیں'بلکہ اس جگہ پرچھینٹےمارلیناہی کافی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت