فهرس الكتاب

الصفحة 2104 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: قبل ازولادت لڑکی کا نکاح کر دینا

2104 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَنَّ خَالَتَهُ أَخْبَرَتْهُ عَنِ امْرَأَةٍ، قَالَتْ: هِيَ مُصَدَّقَةٌ امْرَأَةُ صِدْقٍ، قَالَتْ: بَيْنَا أَبِي فِي غَزَاةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، إِذْ رَمِضُوا، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ يُعْطِينِي نَعْلَيْهِ وَأُنْكِحُهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تُولَدُ لِي؟ فَخَلَعَ أَبِي نَعْلَيْهِ، فَأَلْقَاهُمَا إِلَيْهِ، فَوُلِدَتْ لَهُ جَارِيَةٌ، فَبَلَغَتْ... وَذَكَرَ نَحْوَهُ، لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْقَتِيرِ.

ابراہیم بن میسرہ نے بیان کیا کہ اس کی خالہ نے ایک خاتون سے خبر سنائی جو کمال کی سچی عورت تھی ' وہ بیان کرتی تھی کہ دور جاہلیت میں میرے والد ایک جنگ میں گئے ۔ ان لوگوں کو گرمی لگنے لگی تو ایک شخص نے کہا: کون ہے جو مجھے اپنے جوتے دیدے ' میں اس کا اپنی پہلی پیدا ہونے والی بیٹی سے نکاح کر دوں گا ۔ چنانچہ میرے باپ نے اپنے جوتے اتار کر اس کی طرف پھینک دیے ۔ پھر اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ' اور بالغ ہو گئی ۔ اور گزشتہ قصہ کی مانند بیان کیا مگر سفیدی ظاہر ہونے کا ذکر نہیں کیا ۔

یہ دونوں روایات ضعیف ہیں اس لئے ان سے کسی مسئلے کے اثبات میں دلیل نہیں لی کاسکتی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت