فهرس الكتاب

الصفحة 2106 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: حق مہر کے احکام و مسائل

2106 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ، فَقَالَ: أَلَا لَا تُغَالُوا بِصُدُقِ النِّسَاءِ, فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ, لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَلَا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ، أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً.

ابوالعجفاء السلمی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: " خبردار ! عورتوں کے سلسلے میں بھاری بھاری مہر مت باندھا کرو ، اگر یہ چیز دنیا میں عزت اور اللہ کے ہاں تقویٰ کا ثبوت ہوتی تو اس میں نبی کریم ﷺ سب سے بڑھ کر ہوتے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی کسی بیوی اور اپنی صاحبزادیوں میں سے کسی کو بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر نہیں دیا ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت