فهرس الكتاب

الصفحة 2116 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: اگر کوئی نکاح کے وقت مہر مقرر نہ کرے اور پھر اس کی وفات ہو جائے تو ؟

2116 حَدَّثَنَاعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ وَأَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أُتِيَ فِي رَجُلٍ بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ: فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ شَهْرًا، أَوْ قَالَ: مَرَّاتٍ، قَالَ: فَإِنِّي أَقُولُ فِيهَا: إِنَّ لَهَا صَدَاقًا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا, لَا وَكْسَ، وَلَا شَطَطَ، وَإِنَّ لَهَا الْمِيرَاثَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَإِنْ يَكُ صَوَابًا, فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً, فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ، فَقَامَ نَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ، فِيهِمُ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ، فَقَالُوا: يَا ابْنَ مَسْعُودٍ! نَحْنُ نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَاهَا فِينَا فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ، وَإِنَّ زَوْجَهَا هِلَالُ بْنُ مُرَّةَ الْأَشْجَعِيُّ, كَمَا قَضَيْتَ. قَالَ: فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَرَحًا شَدِيدًا، حِينَ وَافَقَ قَضَاؤُهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عتبہ بن مسعود ، سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص کے بارے میں سیدنا عبداللہ ؓ کو یہ خبر دی گئی ۔ اور پھر وہ لوگ ایک مہینہ تک ان کے پاس چکر لگاتے رہے ۔ یا کہا کئی بار ان کے پاس آئے ۔ تو بلآخر یہ کہا: میری رائے اس میں یہ ہے کہ یہ عورت مہر کی حقدار ہے جیسے کہ اس طرح کی عورتوں کا حق مہر ہوتا ہے ( مہر مثل ) بغیر کسی کمی بیشی کے ۔ اور یہ میراث کی حقدار ہے اور اس پر عدت ( وفات ) بھی لازم ہے ۔ اگر میری یہ بات حق اور درست ہے تو اﷲ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہے تو میری طرف سے ہے اور شیطان کی طرف سے ' اﷲ اور اس کے رسول دونوں اس سے بری ہیں ۔ چنانچہ قبیلہ اشجع کے لوگ کھڑے ہوئے ان میں جراح اور ابوسنان بھی تھے ' انہوں نے کہا: اے ابن مسعود ! ہم گواہی دیتے ہیں کہ یہی فیصلہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری ایک عورت بروع بنت واشق اور اس کے شوہر ہلال بن مرہ اشجعی کے بارے میں فرمایا تھا ' جیسے کہ آپ نے کیا ہے ۔ راوی نے بیان کیا کہ اس سے سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کو بےحد خوشی ہوئی کہ ان کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے مطابق ہوا ہے ۔

1.ہر مسلمان کو اپنے اہم مسائل میں باوثوق علماء کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور عالم پر بھی لازم ہے کہ فتو دینے اور فیصلہ کرنے سے پہلے خوب غور وخوض کر لے اور جہاں تک ہوسکے اپنی رائے کا فیصلہ نہ دے اگر دے تو اس کے احتمال وصواب کا یقین رکھے ۔

2: انسان قرآن وسنت کو اپنا رہنما بنالے تو اللہ عزوجل مشکل مسائل میں اس کی رہنمائی فرماتا ہے اور حضرت عبداللہ مسعودرضی اللہ اور تمام اجلہ صحابہ کرام ،فقہائے اسلام امت مسلمہ کے سلف صالح ہیں ۔

3: نکاح کے وقت اگر حق مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو نکاح صحیح ہے ۔ مگر مہر مثل لازم آئے گا ۔

4: ایسی عورت جس سے اس کے شوہر کا ملاپ نہ ہو،شوہر کی وفات پر عدت وفات پوری کرے ،شوہر کے حق واحترام میں نہ کہ حمل کے شبہ میں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت