212 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ-, عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَحِلُّ لِي مِنِ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ؟ قَالَ: >لَكَ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ وَذَكَرَ مُؤَاكَلَةَ الْحَائِضِ أَيْضًا... وَسَاقَ الْحَدِيثَ
جناب حرام بن حکیم اپنے چچا ( سیدنا عبداللہ بن سعد ؓ ) سے راوی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا کہ میری بیوی جب ایام ( حیض ) میں ہو تو ( ان دنوں ) میرے لیے اس سے کیا کچھ حلال ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " تہہ بند سے اوپر اوپر اور ( عبداللہ بن سعد ؓ نے ) حائضہ عورت کے ساتھ مل کر کھا پی لینے کے متعلق بھی پوچھا ، اور حدیث بیان کی ۔
عورت جب مخصوص ایام میں ہوتوزوجین کےلیے خاص جنسی عمل حرام ہے۔ تاہم اکٹھےکھاپی'اٹھ بیٹھ اورلیٹ سکتےہیں۔ اسی کو آپ نے [مافوق الازار] ''تہہ بندسےاوپراوپر''سےتعبیرفرمایاہےاورظاہرہےکہ اس سےمذی کااخراج ہوگاتوغسل واجب نہ ہوگا۔ ہاں اگرمنی نکل آئےتوغسل کرناپڑےگا۔