فهرس الكتاب

الصفحة 2129 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: زفاف سے پہلے شوہر اپنی بیوی کو کوئی چیز ہدیہ دے

2129 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ، أَوْ حِبَاءٍ، أَوْ عِدَّةٍ، قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ, فَهُوَ لَهَا، وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ, فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ، وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ.

عمرو بن شعیب اپنے والد ( شعیب ) سے ، وہ ( اپنے ) دادا ( عبداللہ بن عمرو ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس عورت کا کسی سے نکاح ہو اور عقد نکاح سے پہلے جو کوئی مہر ، عطیہ یا وعدہ کیا گیا ہو تو وہ سب اس عورت کا حق ہے ۔ اور جو عقد کے بعد دیا جائے تو وہ اسی کا ہے جس کو دیا جائے ۔ اور کسی کا سب سے عمدہ اکرام وہ ہے جو اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے کیا جائے ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت