فهرس الكتاب

الصفحة 2134 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: بیویوں کے درمیان باریوں اور تقسیم کا بیان

2134 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ فَيَعْدِلُ، وَيَقُولُ: >اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ. قَالَ أَبو دَاود: يَعْنِي الْقَلْبَ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ( اپنی ازواج محترمات کے مابین ) تقسیم کرتے اور عدل کرتے اور فرمایا کرتے " اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے جو میرے بس میں ہے ۔ اور اس بات میں مجھے ملامت نہ فرمانا جس کا تو مالک ہے اور میرا اس پر اختیار نہیں ۔ " امام ابوداؤد ؓ نے کہا: اس سے مراد دل ( کا میلان ) ہے ۔

مطلب یہ ہے کہ معاشرتی برتاو میں میں کوتاہی نہیں کرتا ،لیکن دل کا معاملہ میرے اختیار میں نہیں ۔ اس لیے قلبی محبت میں کمی بیشی پر مجھے ملامت نہ کرنا ۔ اس سے معلوم ہواکہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنےوالا اگر ظاہری برتاو میں عدل وانصاف کا اہتمام کرتا رہے گا تو قلبی میلان کی کمی پیشی پر اس کی گرفت نہیں ہو گی ۔ واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت