فهرس الكتاب

الصفحة 2163 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: نکاح کے متفرق مسائل

2163 حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: إِنَّ الْيَهُودَ يَقُولُونَ: إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ فِي فَرْجِهَا مِنْ وَرَائِهَا كَانَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ! فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: 223] .

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہودی کہا کرتے تھے کہ اگر آدمی اپنی بیوی سے اس کے پیچھے سے فرج ( قبل ) میں مباشرت کرے ( کہ وہ پیٹ کے بل لیٹی ہوئی ہو ) تو اس سے بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے ، تو اللہ عزوجل نے یہ نازل فرمایا «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» " تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ، اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ ۔ "

یعنی یہودیوں کا قول وہم باطل ہے اور زوجین کو باہم ہر طرح سے تلذذ کی اجازت ہے ۔ صرف شرط وہی ہے جو اوپر کی حدیث میں ذکر آئی اور مزید یہ کہ ایام حیض بھی نہ ہوں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت