فهرس الكتاب

الصفحة 2167 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: ایام حیض میں بیوی سے مجامعت( ہمبستری کرنے )اور مباشرت ( مباشرت( بغل گیر ہونے )کا مسئلہ

2167 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ, أَمَرَهَا أَنْ تَتَّزِرَ، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا.

ام المؤمنین سیدہ میمونہ ؓا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی کسی بیوی کے ساتھ لیٹنا چاہتے اور وہ حیض سے ہوتی ، تو اسے کہتے کہ اپنی تہ بند خوب اچھی طرح باندھ لے ، پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے ۔

چونکہ نبي? کي پوري زندگي امت کے ليے اسوہ اور نمونہ ہےاس ليے آپ کے اندرون خانہ کے احوال بھي بيان کيے گئے ہيں?

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت