فهرس الكتاب

الصفحة 220 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: جو دوبارہ مجامعت کرنا چاہے تو وضو کرلے!

220 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُعَاوِدَ, فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " تم میں سے جو کوئی اپنی اہلیہ کے پاس آئے ، پھر اس کا خیال دوبارہ آنے کا ہو تو چاہیئے کہ ان دونوں ( باریوں ) کے درمیان وضو کر لے ۔ "

1۔ مذکورہ بالاحادیث (218،219) میں کسی قسم کاتعارض نہیں ہےبلکہ یہ دومختلف احوال کابیان ہے۔

2۔ دوبارہ رغبت ہوتواس دوران میں وضوکرلیناجمہورکےنزدیک مستحب ہے۔امام ابن خزیمہ اس وضوسےباقاعدہ نمازوالاوضومرادلیتےہیں'نہ کہ محض استنجایاتنظیف (صفائی) جیسےکہ امام طحاوی کاخیال ہےاوراس کافائدہ یہ بتایاگیاہےکہ''اس سے طبیعت میں خوب نشاط پیدہ ہوجاتی ہے''اوریہی جملہ اس امر کیلئے''امراستحباب''ہونےکاقرینہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت