فهرس الكتاب

الصفحة 2217 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: ظہار کے احکام و مسائل

2217 حَدَّثَنَاابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ... بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ خَمْسَةِ عَشَرَ صَاعًا، قَالَ: >تَصَدَّقْ بِهَذَاكُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ.

سلیمان بن یسار نے یہ خبر بیان کی اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجور لائی گئی ، آپ نے یہ اسے دے دی جو پندرہ صاع کے قریب تھی اور فرمایا " اسے صدقہ کر دو ۔ " تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا اپنے اور اپنے گھر والوں سے زیادہ فقیر لوگوں پر صدقہ کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " تم کھا لو اور تمہارے گھر والے ۔ "

ان کا یہ مطلب تھا کہ غربت کے لحاظ سے ہم سے زیادہ اس صدقے کا مستحق اور کوئی نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت