فهرس الكتاب

الصفحة 2228 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: خلع کے احکام و مسائل

2228 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو السَّدُوسِيُّ الْمَدِينِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ كَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، فَضَرَبَهَا فَكَسَرَ بَعْضَهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الصُّبْحِ، فَاشْتَكَتْهُ إِلَيْهِ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَابِتًا، فَقَال:َ >خُذْ بَعْضَ مَالِهَا وَفَارِقْهَانَعَمْخُذْهُمَا وَفَارِقْهَا. فَفَعَلَ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے مروی ہے کہ حبیبہ بنت سہل ، سیدنا ثابت بن قیس بن شماس کی زوجیت میں تھی تو ثابت نے اس کو مارا اور اس کا کچھ توڑ بھی دیا ، تب وہ فجر کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور شوہر کی شکایت کی ۔ پس نبی کریم ﷺ نے ثابت کو بلایا اور فرمایا " اس سے کچھ مال لے لو اور اس کو علیحدہ کر دو ۔ " انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا یہ صحیح ہے ؟ آپ نے فرمایا " ہاں ۔ " انہوں نے کہا: میں نے اس کو مہر میں دو باغ دیے ہیں اور وہ اسی کے قبضے میں ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " وہ دونوں لے لو اور اسے علیحدہ کر دو ۔" چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت