فهرس الكتاب

الصفحة 2249 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: لعان کے احکام و مسائل

2249 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ... بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَكَانَ يُدْعَى -يَعْنِي: الْوَلَدَ -لِأُمِّهِ. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ.

سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ نے یہ خبر بیان کی تو کہا کہ پس بچے کو اپنی ماں کی طرف نسبت کر کے پکارا جاتا تھا ۔

ولد الزناء کی نسبت ان کی ماؤں کی طرف ہوتی ہے تاہم ان کی تربیت صحیح اسلامی انداز میں کی جانی چاہیے۔تاکہ با وقار اسلامی زندگی گزاریںز

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت